8 ستمبر 2026 - 15:54
ڈان: امریکا شکست تسلیم کرنے سے قاصر، کوہستک اور میناب کے حملے جنگی حکمتِ عملی کی ناکامی کا ثبوت

پاکستانی اخبار ڈان نے ایران کے خلاف امریکی جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوہستک میں شادی کی تقریب اور میناب کے اسکول پر امریکی حملے انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود واشنگٹن کی جنگی حکمتِ عملی کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم امریکا اپنی شکست تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستانی اخبار ڈان نے پیر کے روز ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ پر عالمی توجہ زیادہ تر اس کے جغرافیائی سیاسی اثرات اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات تک محدود ہے، جبکہ جنگ میں ہونے والی انسانی ہلاکتیں اکثر نظر انداز کردی جاتی ہیں۔

ڈان نے یکم ستمبر کو ہرمزگان کے علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر میزائل حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ خوشی کی محفل خوف اور المیے میں بدل گئی اور اس حملے میں ایک بچے سمیت کم از کم 5 افراد شہید ہوئے۔

اخبار نے اس حملے کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ڈان کے مطابق یہ واقعہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں میناب کے ایک اسکول پر ہونے والے امریکی حملے کی یاد تازہ کرتا ہے، جس میں 168 افراد، جن میں اکثریت طلبہ کی تھی، شہید ہوئے تھے۔

ڈان نے اپنی رپورٹ کے آخر میں قرار دیا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا کے پاس جنگ کے لیے واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ اخبار کے مطابق قیمتی انسانی جانیں اس لیے ضائع ہورہی ہیں کہ امریکا جیسی بڑی طاقت اپنی شکست تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے حالیہ رپورٹ میں بندر کوہستک میں شادی کی تقریب پر امریکی حملے کے نئے پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں امریکا کی جانب سے 500 کلوگرام وزنی انتہائی درست نشانہ لگانے والے بم کا استعمال کیا گیا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha